صفحہ اوّل
فہرست میں واپسی
کیا عشق ایک زندگیِ مستعار کا
کیا عشق پائدار سے ناپائدار کا
وہ عشق جس کی شمع بُجھا دے اجل کی پھُونک
اُس میں مزا نہیں تپش و انتظار کا
میری بساط کیا ہے، تب و تابِ یک نفَس
شُعلے سے بے محل ہے اُلجھنا شرار کا
کر پہلے مجھ کو زندگیِ جاوداں عطا
پھر ذوق و شوق دیکھ دلِ بے قرار کا
کانٹا وہ دے کہ جس کی کھٹک لازوال ہو
یا رب، وہ درد جس کی کسک لازوال ہو!